قسم کا کفارہ

Spørsmål:

Assalama-o-alaikom Mera sawal je hai agar koi parents zabardasti apni beti ki jholi mein quarn-e-pak rakh dein aur zabardasti half le ke wo on ki jaha razamandi hai waha hi shadi kare, beshaq os ke waledain ko pata hai ke wo kisi aur se shadi karna cahti hai to is ka shari kea huqam hai? aur agar os ladki ne hath rakh kar dabao ke andhar a ke half otha liya to is ka kea kaffara hai shari rehnumai kyjiye.


Svar:

 

السلام علیکم ورحمۃاللہ۔
سوال ارسال کرنے کا شکریہ۔

حلف اٹھانے کا کچھ کفارہ نہیں چاہے وہ کسی کے دباؤ میں آ کر اٹھایا جائے یا اپنی مرضی سے۔ کفارہ اس صورت میں واجب ہو تا ہے جب حلف یا قسم کو توڑا جائے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص یہ حلف اٹھائے کہ میں آج کے بعد زید کے گھر نہیں جاؤں گا تو اس کے بعد وہ جب بھی کبھی زید کے گھر گیا تو حلف ٹوٹ جائے گا اور اس کو حلف توڑنے کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔

لہٰذا اگر لڑکی نے یہ حلف اٹھانے کے بعد شادی اس لڑکے سے نہ کی جہاں اس کے والدین کروانا چاہتے ہیں بلکہ کسی اور شخص سے شادی کرلی تو اس طرح حلف ٹوٹ جائے گا اور اسے کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔

قسم توڑنے کا کفارا یہ ہے کہ دس مسکینوں کو ایک ایک صدقہ فطر یا فطرانہ کی مقدار ادا کی جائے یا ایک ہی مسکین کو دس دن روزانہ ایک فطرانہ کی مقدار دے دی جائے۔ فطرانہ کی مقدار تقریباً دو کلو پچاس گرام گندم یا اس کا آٹا ہے۔ اتنے آٹے کی رقم بھی ادا کر سکتے ہیں اور دس مسکینوں کو کھانا بھی کھلا سکتے ہیں۔ اگر کھانا نہ کھلائیں تو دس مسکینوں کو کپڑے پہنا دیں۔ اگر یہ نہ کر سکیں تو پے درپے تین روزے رکھنا ضروری ہیں۔ قرآنِ مجید میں ہے:

لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔ (المائدہ: آیت ۸۹)

ترجمہ کنزالایمان:  اللّٰہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا، تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یا اِنہیں کپڑے دینا یا ایک بردہ (یعنی غلام) آزاد کرنا۔ تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے، یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اوراپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح اللّٰہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو۔ (سورہ المائدہ، آیت نمبر ۸۹)۔


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
نجیب الرحمٰن ناز

 

 

Spørsmål & svar

  • Siste svar
  • Mest leste
  • Høyest rangert

See all..

Jan 29, 2008

Hvordan bes istikhara-bønnen ?

AoA,Jeg har hørt at man skal gjøre istikhara før en viktig avgjørelse. Hvordan gjør man…
Sep 28, 2007

Beskyttelse mot svart magi

Jeg trenger veiledning og råd når det gjelder beskyttelse mot mennesklig svart magi og…
Jun 05, 2008

Er all mat fra havet halal?

Salaam alekumEr alt i havet halal?for eks,hval,krabbe,cahmpi,reker,blåkjell.noen sier at…

See all..

See all..

София plus.google.com/102831918332158008841 EMSIEN-3